سرینگر19 مئی (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا) بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ بھٹکے ہوئے نوجوانوں کی جانب سے اٹھایا گیا ہر پتھر اور ہتھیار جموں کشمیر اور ملک کو غیر مستحکم کرتا ہے۔ مودی نے اس کے ساتھ ہی ریاست کے لوگوں سے اس عدم استحکام سے باہر آنے کی کوشش کرنے کا اعلان کیا۔رمضان کے مہینے کے دوران انسداد دہشت گردی مہم روکنے کے اعلان کے بعد مودی پہلی بار ریاست کے دورے پر ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں غیر ملکی طاقتیں سرگرم ہیں جو جموں کشمیر کی ترقی نہیں چاہتی۔ انہوں نے کہا کہ بھٹکے ہوئے نوجوانوں کی طرف سے اٹھایا گیا ہر پتھر اور ہر ہتھیار ان کے اپنے جموں کشمیر کو غیر مستحکم کرتا ہے۔ ریاست کو اس غیر مستحکم ماحول سے باہر آنا ہوگا۔ مودی نے کہا کہ نوجوانوں کو اپنے اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لئے بھارت اور کشمیر کی ترقی کے مرکزی دھارے میں شامل ہونا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ مرکزی اور ریاستی سرکار کے پاس ریاست کی ترقی مسائل کو حل کرنے کے لئے پالیسی، ارادہ اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں سب کی طرف سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ریاست کی ترقی میں اپنی توانائی صرف کریں۔تمام مسائل کا حل صرف ترقی میں ہے ۔ وزیر اعظم مودی نے ملک کو 330 میگاواٹ کشن گنگا بجلی پروجیکٹ وقف کیا جس کی تعمیر کشمیر کے گریز علاقے میں ہوا ہے۔ مودی نے اس کے ساتھ ہی سری نگر واقع شیر کشمیر بین الاقوامی کانفرنس سینٹر سری نگر میں سرینگر رنگ روڈ کی بنیاد رکھی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بننے کے بعد ایک سال بھی ایسا نہیں گزرا جب میں نے ریاست کا دورہ نہیں کیا ۔ گویا میں نے ہر سال اس ریاست کا دورہ کیا ہے۔ماہ مقدس کے حوالے سے مودی نے اسلامی تعلیمات کے ذکر سے چوک نہیں کی، انہوں نے کہا کہ یہ مہینہ پیغمبر محمدؐ کی تعلیمات اور پیغام کو یاد کرنے کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسوہ رسول ؐ کا پیغام ملک کو صحیح معنوں میں آگے لے جا سکتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ ایک خوش اتفاقی ہے کہ اس منصو بہ کی تقریب رمضان کے مہینے میں ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ریاست کو نہ صرف مفت بلکہ ریاست کو کافی توانائی مہیا کرائے گی۔ ریاست کی بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بجلی کے ایک بڑے حصے کی فراہمی ملک کے دیگر حصوں سے ہوتی ہے۔ مودی نے کہا کہ پر امن ماحول سے جموں کشمیر میں سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا اور ریاست کے نوجوانوں کو نئے روزگار کے مواقع ملیں گے ۔